بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، گرین لینڈ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی قبضے کے دعوؤں اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا جیسے حالیہ واقعات کے پیش نظر، یورپی یونین کے سفارتکاروں نے واشنگٹن سے براہ راست تصادم کے امکان کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
امریکی جریدے "پولیٹیکو" کی رپورٹ کے مطابق، یورپی حکام ٹرمپ انتظامیہ کے جارحانہ رویئے کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کے ایک سفارتکار نے واضح کیا کہ "ہمیں ٹرمپ سے براہ راست تصادم کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ وہ جارحیت کے موڈ میں ہیں اور ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔"
پولیٹیکو کا کہنا ہے کہ یہ بیان یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر 'بلجیم' میں فکرمندی کے اعلیٰ سطح کو نمایاں کرتا ہے۔
واشنگٹن کی جارحانہ پالیسی کے سامنے یورپ کی الجھن
پولیٹیکو کے مطابق، ڈنمارک کے سابق پارلیمانی رکن نے بتایا کہ "یورپی حکام کو "دھچکا" لگا ہے اور وہ "الجھن اور پریشانی" سے دوچار ہیں۔ اور ان کے پاس ممکنہ امریکی اقدامات سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح ذرائع نہیں ہیں۔"
ٹنمارک کے سابق رکن پارلیمان نے زور دے کر کہا ہے کہ "امریکی جو چاہیں کر سکتے ہیں چنانچہ ہمیں فوری جواب کی ضرورت ہے۔"
اسی اثنا میں، فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اعلان کیا ہے کہ "پیرس، برلن اور وارسا ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایک مشترکہ یورپی ردعمل پر غور کر رہے ہیں۔"
انھوں نے زور دیا کہ "گرین لینڈ نہ تو فروخت کے لئے ہے اور نہ ہی قبضے کے لئے؛ ان دھمکمیوں کو رک جانا چاہئے۔"
ٹرمپ کو روکنے کے لئے یورپ کے منظرنامے
پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں یورپ کے چار ممکنہ آپشنز کا حوالہ دیا ہے: جن میں مصالحت کی کوشش، قطب شمالی میں سیکورٹی اخراجات میں اضافہ اور امریکی اثر و رسوخ کو دور رکھنے کے لئے گرین لینڈ کو مالی امداد بڑھانا شامل ہیں۔
- تجارتی میکانزم
ایک سنجیدہ آپشن، یورپی یونین کے 'انسداد جبر کے اوزار' (Anti-Coercion Instrument) کا استعمال ہے؛ یہ ایک تجارتی میکانزم ہے جو ٹرمپ کی پہلی صدارت کے بعد امریکی معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ یورپی پارلیمان کی تجارتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ برسلز کے پاس جوابی کارروائی کے لئے معاشی طاقت موجود ہے۔
- افواج کی تعیناتی
ایک اور زیادہ سخت منظرنامے میں، گرین لینڈ میں یورپی فوجیوں کی تعیناتی کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ اس روش میں امریکہ کا فوجی مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، لیکن یہ واشنگٹن کی فوجی کارروائی کے سیاسی اور انسانی لاگت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ دریں اثنا پولیٹیکو نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال کے اس نہج تک پہنچنے کی وجہ سے انسانی-جانی نقصان کا سنجیدہ خطرہ ہوگا۔
مضمون کا خلاصہ:
یوروپ کے سفارتکار ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کے بارے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر سے براہ راست تصادم کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔
امریکی رسالے پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق:
• یورپی حکام امریکی حکومت کے جارحانہ رویئے سے شدید پریشان ہیں۔
• امریکہ کے ممکنہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے پاس واضح ذرائع نہیں ہیں۔
• فرانس، جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک ٹرمپ نے مشترکہ یورپی ردعمل پر غور کر رہے ہیں۔
تصادم کے ممکنہ منظرنامے:
1۔ مصالحت کی کوشش۔
2۔ قطب شمالی میں سیکورٹی اخراجات بڑھانا۔
3۔ امریکی اثر و رسوخ کو دور رکھنے کے لئے گرین لینڈ کو مالی امداد بڑھانا۔
4۔ انسداد جبر کے اوزار' (Anti-Coercion Instrument) کا استعمال؛ جو کہ ایک تجارتی میکانزم ہے۔
گرین لینڈ میں یورپی فوجیوں کی تعیناتی پر بھی غور ہو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ